ہم امریکہ ،کینیڈا ، یورپ میں دیکھتے ہیں کہ (Senior Citizens) سینئر شہریوں کو بیکار یا معاشرے پر بوجھ نہیں سمجھا جاتا۔ شاپنگ مال ہوں، بڑے اسٹور ہوں یا سپر مارکیٹوں کی کیشئر جابز، ہر جگہ بڑی عمر کے مرد اور خواتین کام کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض خواتین تو ایئرلائنز میں بھی ائیرہوسٹس کے فرائض انجام دے رہی ہوتی ہیں وہاں کسی کی قابلیت کو صرف اس لیے ختم نہیں سمجھ لیا جاتا کہ اس کے بال سفید ہو گئے ہیں یا چہرے پر جھریاں آ گئی ہیں۔اصل میں یہاں انسان کی عمر نہیں، اس کی صلاحیت، تجربہ اور کام کرنے کی خواہش دیکھی جاتی ہے۔ ایک سینئر شخص جو پینتالیس سالہ تجربہ رکھتا ہے، وہ اپنے ساتھ زندگی بھر کی سمجھ بوجھ، صبر، معاملات کو سنبھالنے کی صلاحیت اور انسانی رویوں کا گہرا مشاہدہ بھی لاتا ہے
اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد انسان کو گھر بیٹھ جانا چاہیے۔ خصوصاً خواتین کے بارے میں یہ رویہ زیادہ سخت ہےجوانی کو صلاحیت کا معیار اور بڑھتی عمر کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑھاپا جسم کی عمر کا نام ہے، ذہن اور تجربے کی شکست کا نہیں۔بہت سے سینئر افراد صرف مالی ضرورت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی عزتِ نفس، مصروف زندگی اور معاشرے سے جڑے رہنے کے لیے کام کرتے ہیں کام انہیں یہ احساس دیتا ہے کہ وہ آج بھی مفید ہیں، ان کی ضرورت ہے اور وہ دوسروں پر بوجھ نہیں کیا عمر بڑھتے ہی انسان بیکار ہو جاتا ہے؟عمر نہیں، تجربہ بولتا ہےیاتجربے کا خزانہ یا معاشرے کا بوجھ؟ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی اور سینئر افراد کی عزتِ نفس سب بہت خوبصورتی سے شامل ہو سکتے ہیں کینیڈا میں اولاد جب کمانے کے قابل ہوجاتے ہیں والدین کو چھوڑ جاتے ہیں کہ یہ ان کا کلچر ہے مگر یہاں کی گورنمنٹ بزرگ شہریوں کی پوری زمہ داری اٹھاتے ہیں ،ایک وقت تھا جب ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندان کا نظام مضبوط ہوا کرتا تھا ایک ہی گھر میں کئی نسلیں آباد ہوتی تھیں دادا دادی، نانا نانی، بچے اور پوتے پوتیاں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔ گھر میں بزرگوں کی موجودگی محض ایک فرد کی موجودگی نہیں بلکہ پورے خاندان کے لیے محبت، تجربے اور رہنمائی کا مرکز ہوتی تھی۔ بزرگ تنہا نہیں ہوتے تھے؛ ان کے گرد بچوں کی آوازیں، گھر کے معمولات اور اپنے لوگوں کی توجہ ہوتی تھی۔مگر وقت کے ساتھ خاندانی نظام بدلتا گیا۔ چھوٹے خاندانوں کا رواج بڑھا، بچے تعلیم اور روزگار کے لیے دوسرے شہروں اور ممالک میں منتقل ہو گئے، اور وہ مشترکہ گھر، جہاں کئی نسلیں ایک ساتھ رہتی تھیں، آہستہ آہستہ ٹوٹتے چلے گئے۔ آج ہم آزادی، پرائیویسی اور اپنی زندگی کے فوائد تو گنواتے ہیں، مگر اس تبدیلی کی ایک بڑی قیمت ہمارے بزرگ تنہائی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔اب اولڈ ہوم صرف مغربی معاشروں کی شناخت نہیں رہے۔ ہمارے ہاں بھی ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بچے بہتر مستقبل کی تلاش میں امریکہ، یورپ اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں جا بستے ہیں اور بہت سے والدین اپنے وطن میں اکیلے رہ جاتے ہیں بعض کو حالات اولڈ ہوم تک لے جاتے ہیں، اور بعض کے پاس اپنے گھروں میں رہتے ہوئے بھی کوئی ایسا نہیں ہوتا جس کے پاس بیٹھ کر وہ اپنے دل کی بات کر سکیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بزرگوں کا مقدر صرف ریٹائرمنٹ کے بعدخاموشی، تنہائی اور دوسروں پر انحصار ہے؟ کیا وہ شخص جس نے اپنی جوانی اپنے بچوں اور خاندان کے لیے وقف کر دی، بڑھاپے میں اپنی دوائی، علاج اور چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے دوسروں کا محتاج ہو جائے؟ہمارے مشرقی معاشرے میں بزرگوں کو ہمیشہ خاندان کا ستون سمجھا جاتا تھا، مگر آج بدلتی ہوئی زندگی نے اس ستون کو خاموشی کے ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہم نے بوڑھے لوگوں کوکیادیاہمارےمعاشرے میں ایک افسوناک رویہ یہ ہے کہ ہم نے بوڑھے لوگوں کو زندگی کے تجربات کا خزانہ سمجھنے کے بجائے اکثر گھر کا فالتو فرد بنا دیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد گویا انسان کی ضرورت اور اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ برسوں تک گھر اور خاندان کے لیے محنت کرنے والا شخص جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اب آپ آرام کریں، لیکن یہ آرام اکثر محبت اور احترام سے زیادہ تنہائی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔بزرگ گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی گفتگو، فیصلوں اور سرگرمیوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے ان کے تجربات پرانے خیالات بن جاتے ہیں اور بعض گھروں میں ان کی بات سننے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ رفتہ رفتہ وہ خود کو غیر ضروری سمجھنے لگتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس شخص نے اپنی جوانی، طاقت اور عمر اپنے بچوں کی بہتر زندگی بنانے میں صرف کر دی، اس کا بڑھاپا تنہائی اور بے مقصدی کی نظر ہوجائے دوسری طرف مغربی معاشروں میں سینئر شہریوں کو معاشرے کا فعال حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے مطابق کام کرتے ہیں، رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں، سفر کرتے ہیں اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ وہاں بڑھتی عمر کو زندگی کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ہم نے بوڑھے لوگوں کو زندگی کا حق دینے کے بجائے اکثر صرف چارپائی، دوائی اورخاموشی دے دی ہے۔ حالانکہ انہیں سب سے زیادہ ضرورت عزت، محبت، گفتگو، مصروفیت اور اس احساس کی ہوتی ہے کہ وہ آج بھی اہم ہیں، ان کی رائے کی قدر ہے اور معاشرے کو اب بھی ان کے تجربے کی ضرورت ہے۔ریٹائرمنٹ کا مطلب زندگی سے ریٹائرمنٹ کیوں؟
اگر کوئی شخص جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہے تو اسے عمر کی وجہ سے کام سے کیوں الگ کر دیا جائے؟ وہ جزوقتی ملازمت، مشاورت، تربیت یا اپنی صلاحیت کے مطابق کوئی اور کام کیوں نہیں کر سکتا؟بچوں کا محتاج بننے کی مجبوری
ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سے بزرگوں کی آمدنی ختم یا محدود ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اپنی دوائی، علاج اور ذاتی ضروریات کے لیے بھی بچوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ معاشی انحصار اکثر انسان کی خودداری کو بھی متاثر کرتا ہے۔بزرگوں کے لیے روزگار کے مواقع کہاں ہیں؟
ہمارے ملک میں تجربہ کار بزرگوں کے لیے جزوقتی ملازمتوں اور مناسب کام کا کوئی مؤثر نظام نہیں۔ حالانکہ اسٹورز، اسکولوں، دفاتر، لائبریریوں اور بہت سے دوسرے شعبوں میں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔خواتین کے لیے مسئلہ اور بھی زیادہ بہت سی خواتین جوانی میں گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ملازمت نہیں کر پاتیں۔ جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ اب وہ کچھ کر سکتی ہیں، مگر عمر کے نام پر ان کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔تجربہ ہماری سب سے بڑی قومی دولت ہے ایک استاد، ڈاکٹر، انجینئر، اکاؤنٹنٹ، سرکاری افسر یا ہنرمند شخص صرف اس لیے بے کار نہیں ہو جاتا کہ اس کی عمر ساٹھ سال ہو گئی۔ ریٹائرمنٹ کے ساتھ اس کا تجربہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
بزرگوں کو مصروف رہنے کا حق کام صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کو ذہنی طور پر زندہ اور معاشرے سے مربوط رکھتا ہے۔ جب بزرگوں کو مکمل طور پر الگ کر دیا جاتا ہے تو وہ خود کو غیر ضروری سمجھنے لگتے ہیں آخر ریٹائرمنٹ کے بعد ہمارے بزرگ کیا کریں؟ کیا وہ صرف دواؤں کے اوقات گنیں، بچوں کے گھر میں ایک کمرے تک محدود رہیں اور یہ محسوس کرتے رہیں کہ اب ان کی کسی کو ضرورت نہیں؟جس معاشرے میں تجربے کی قدر نہ ہو، وہاں ہر نسل کو دوبارہ وہی غلطیاں سیکھنے اور دہرانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بزرگ بوجھ نہیں ہوتے، وہ زندہ تجربہ ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے لیے کام، مصروفیت اور باوقار زندگی کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ رسیدہ افراد (Senior Citizens) کے حقوق کی حالت بہتر نہیں، اولاد اپنے فطرتی فرائض سے بے اعتنائی برت رہی ہے اوربزرگ افراد اپنے ہی گھر سے نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور مخصوص رفاہی اور ثقافتی اداروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور آئے دن ان پر زیادتی کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔مسلم خاندان ومعاشرے میں بھی بتدریج تبدیلیاں آرہی ہیں لہذا ضروری ہے کہ عمر رسیدہ لوگوں کے حقوق اور ان کے ادب واحترام اور خدمت وخبر گیری کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کی و ضاحت کی جائے۔
غیر ممالک میں رہتے ہوئے ہم اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ یہاں پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں، کوئی بیمار ہو جائے تو ضروری نہیں کہ ساتھ والے گھر کو بھی معلوم ہو، نہ رشتے داروں کی آمدورفت، نہ بلاواسطہ میل جول، نہ وہ اپنائیت جس کے قصے ہم اپنے وطن کے حوالے سے...
پولیس کا محکمہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان کی علامت اور شہریوں کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پولیس کی اصل کارکردگی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شہری مصیبت میں اسے آواز دیتا ہے۔ ہم کینیڈا میں رہتے ہوئے جب پولیس کی پھرتی دیکھتے ہیں تو کبھی کبھی...
بد اچھا بدنام برا نام بڑا درشن چھوٹے اس طرح کے کئی محاورے اور مثالیں نام پر پائی جاتی ہیں ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا،آجکل فی زمانہ نام میں کچھ نہیں رکھا دیکھا جائے تو اگر نام کے ساتھ بدلگ جائے تو اس کے لئے دولت ،عزت ،شہرت کے دروازے کھل...
کینیڈا کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں کہتے ہیں یہاں سال کے چھ موسم ہوتے ہیں، جن میں تین وہ ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں! یہاں موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلنا بھی ایک طرح کا امتحان ہے۔ صبح سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو تو آدمی سوچتا...